Thursday, July 4, 2013 2 comments

کبھی ہم خوبصورت تھے

                                                                                  


کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
!سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے 
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر 
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے 
جو ہم سے دور تھے 
!لیکن ہمارے پاس رہتے تھے 
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
!تو ہم کہتے تھے۔۔۔ ۔۔امی
تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے 
ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ 
کھڑکی سے بلاتی ہے 
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
Wednesday, July 3, 2013 0 comments

آنکھیں روح کی آئنہ دار ہوتی ہیں۔

Pipie ~ by Gansforever Osman


“The soul, fortunately, has an interpreter - often an unconscious but still a faithful interpreter - in the eye.”  Jane Ayre

 
Thursday, June 27, 2013 1 comments

Inferno ( انفرنو)




ڈین براون کے ناولز کی میں ہمیشہ سے فین تھی۔ مجھے یاد ہے ہائی سکول میں میں نے انکا پہلا ناول "دا ونشی کوڈ" پڑھا تھا اور انکے سمبلز کے استمال اور سیکرٹ سوسایٹیز کے بارے میں انفارمیشن نے مجھے کافی متاثر کیا تھا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک میں سیکرٹ سوسایٹیز کے بارے میں تحقیق کرتی رہی اور آج بھی جب وقت ملے یہ کام کرتی رہتی ہوں۔ حال ہی میں انکا نیا ناول "انفرنو" شائع ہوا ہے ۔ کچھ دن پہلے اسے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انکا یہ حالیہ ناول " گلوبل اوور 
پاپولیشن" اور " ٹرانس ہیومنزم" کی تھیمز پہ لکھا گیا ہے۔

"گلوبل اوور پاپولیشن" کا ٹاپک نیا نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں "مالتھس تھیورم" ایک
 وقت میں کافی مشہور ہوا۔ اس تھیوری کے مطابق، جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے ، مستقبل قریب میں غذائی قلت کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مالتھس کے مطابق، قدرتی آفات جیسے سیلاب، مخلتف وبائیں، اور قحط وغیرہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کا ایک قدرتی زریعہ ہیں تا کہ دنیا کی کل آبادی اور غذائی وسائل میں ایک توازن برقرار رہے۔ اس کتاب میں بھی دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کتاب کی دوسری تھیم "ٹرانس ہیومنزم"ہے جو کہ جنیٹک انجیرنگ کی ایک فیلڈ ہے۔
 اس کے ذریعے مستقبل میں بہت سی بیماریوں کا علاج اور انسانی عمر کو بڑھانے کے طریقوں پر ریسرچ شامل ہے۔ ٹرانس ہیومنزم کی ریسرچ گو اچھے مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے لیکن کتاب کے مصنف کے مطابق اسکا استمال بعض حکومتوں یا بعض عناصر کے خاص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں ٹرانس ہیومنزم کی فیلڈ کا استمال ایک ایسا مہلک وائرس بنانے کے لئے کیا گیا ہے جس سے دنیا کی آبادی کو کم کیا جا سکے۔

گو کہ یہ ایک فکشن ناول ہے لیکن "گلوبل اوور پاپولیشن" اور "ٹرانس ہیومنزم" کی دونوں تھیمز بلکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ آج سائینس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ مختلف نینو ٹیکنالوجیز کی مدد سے وائرسزز تیار کر سکتی ہے۔ ایڈز اور مختلف الفلوئنزا وائرسز اسکی کھلی مثال ہیں۔ ایڈز وائرس کا ٹیسٹ جس طرح افریکہ میں ویکسینیشن مہم کے تحط کیا گیا، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

جہاں ایک طرف ٹرانس ہیومنزم ٹیکنالوجی کا استمال وائرس بنانے کے لیئے کیا جا
 سکتا ہے وہیں دوسری طرف اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کی عمر اور اسکی ذہانت کو بھی سپیشل چپس کی مدد سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ اچھی بات ہے وہیں دوسری طرف اس کے نقصانات بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرے کے مختلف لوگوں کے درمیان پہلے سے موجود فاصلے کا اور زیادہ بڑھنا ہو گا۔ ظاہر ہے یہ ٹیکنالوجی اگر منظر عام پر آتی ہے تو سب سے پہلے اسے امیر اور صاحب حثیت لوگ اور ملک ہی استمال کریں گے اور یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ اسےکون استمال کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ تو ذرہ اندازہ لگائیں کہ جو دنیا پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان بٹی ہوئی ہے وہ مزید ذہین اور کم ذہین اور شاید اعلی انسان اور نچلے انسانوں جیسی مزید تقسیم کا شکار ہو جائے۔ اس طرح آنے والے مستقبل میں ہم آگے جانے کے بجائے ڈارک ایجز کے ایک نئے دور میں داخل ہو جایئں گے جو ہم سے ہماری بچی کچھی انسانیت اور انسانی تہذیب اور ولیوز بھی چھین لےگا۔۔۔        
Saturday, June 22, 2013 0 comments

Have Mercy on me My Soul



This has been my favorite poem from last 5 years...


Why are you weeping, my Soul?
Knowest thou my weakness?
Thy tears strike sharp and injure,
For I know not my wrong.
Until when shalt thou cry?
I have naught but human words to interpret your dreams,
Your desires, and your instructions.

Look upon me, my Soul;
I have consumed my full life heeding your teachings.
Think of how I suffer!
I have exhausted my life following you.

My heart was glorying upon the throne,
But is now yoked in slavery;
My patience was a companion,
But now contends against me;
My youth was my hope,
But now reprimands my neglect.

Why, my Soul, are you all-demanding?
I have denied myself pleasure
And deserted the joy of life
Following the course which you impelled me to pursue.
Be just to me,
Or call Death to unshackle me,
For justice is your glory.

Have mercy on me, my Soul.
You have laden me with Love until I cannot carry my burden.
You and Love are inseparable might;
Substance and I are inseparable weakness.
Will e'er the struggle cease between the strong and the weak?

Have mercy on me, my Soul.
You have shown me Fortune beyond my grasp.
You and Fortune abide on the mountain top;
Misery and I are abandoned together in the pit of the valley.
Will e'er the mountain and the valley unite?

Have mercy on me, my Soul.
You have shown me Beauty,
But then concealed her.
You and Beauty live in the light;
Ignorance and I are bound together in the dark.
Will e'er the light invade darkness?

Your delight comes with the Ending,
And you revel now in anticipation;
But this body suffers with the life
While in life.
This, my Soul, is perplexing.

You are hastening toward Eternity,
But this body goes slowly toward perishment.
You do not wait for him,
And he cannot go quickly.
This, my Soul, is sadness.

You ascend high, though heaven's attraction,
But this body falls by earth's gravity.
You do not console him,
And he does not appreciate you.
This, my Soul, is misery.

You are rich in wisdom,
But this body is poor in understanding.
You do not compromise,
And he does not obey.
This, my Soul, is extreme suffering.

In the silence of the night you visit The Beloved
And enjoy the sweetness of His presence.
This body ever remains,
The bitter victim of hope and separation.
This, my Soul, is agonizing torture.
Have mercy on me, my Soul!

Khalil Jabran
Wednesday, June 19, 2013 0 comments

آنکھوں کا پانی

"Estudio Portugal 4" de Ruben Belloso Adorna



بے حسوں کے شہر میں حساس کو سوجھی ہے کیا ؟
بیچنے  بازار  میں  آنکھوں  کا  پانی  آ   گیا۔ ۔ ۔
Tuesday, June 18, 2013 2 comments

شہاب نامہ



بہت عرصے بعد کسی مصنف یا کسی کتاب نے اس طرح متاثر کیا۔ ہم عموماً بہت سی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ کتابیں اپنی چھاپ آپکے ذہن پہ چھوڑ  دیتی ہیں اور آپ کو اپنے سحر میں کچھ اس طرح سے جکڑ لیتی ہیں کہ آپ غیر ارادی طور پر اس کتاب سے حاصل ہوۓ اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شہاب نامہ بلکل ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ یہ قدرت الله شہاب صاحب کی سوانح عمری ہے جو انہوں نے ابنٰ انشا کے زور دینے پہ لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے انڈین سول سروس اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان سول سروس میں پیش آنے والے تجربات و واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ 1950 سے 1970 کے عرصے کے دوران وہ مختلف صدور کے سیکرٹری کے فرایض سر انجام دیتے رہے اور اس طرح اس دور کے سیاسی منظر نامے کی اندر کی خبروں سے واقف تھے جنکا ذکر انہوں نے اس کتاب میں بھی کیا ہے۔  انکی سیاسی اور علمی بصیرت کے علاوہ ایک اور قابل ستائش با ت انکی مذہبی و روحانی  وابستگی بھی ہے۔ اس کتاب میں بہت بار انہوں نے ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جو انکی مذہبی وابستگی و بصیرت کا کھلا ثبوت ہیں۔  
اس کتاب میں سے کچھ پسندیدہ اقتباسات
  1. "ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔اگر افغانستان،ایران، مصر، عراق اور ترکی اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو پھر بھی وہ افغانی، ایرانی، مصری، عراقی اور ترک ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلام کے نام سے راہ فرار اختیار کریں تو پاکستان کا اپنا کوئی الگ وجود نہیں قائم نہیں رہتا۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  1.  اگلے روز انہوں نے مجھے مدینہ منورہ سے رخصت کردیا میں نے بہت عذر کیا کہ میرا یہاں سے ہلنے کو جی نہیں چاہتا لیکن وہ نہ مانے فرمانے لگے پانی کا برتن بہت دیر تک آگ پر پڑا رہے تو پانی ابل ابل کر ختم ہو جاتا ہے اور برتن خالی رہ جاتا ہے دنیا داروں کا ذوق شوق وقتی ابال ہوتا ہے کچھ لوگ یہاں رہ ر بعد میں پریشان ہوتے ہیں ان کا جسم تو مدینے میں ہوتا ہے لیکن دل اپنے وطن کی طرف لگا رہتا ہے اس سے بہتر ہے کہ انسان رہے تو اپنے وطن میں مگر دل مدینے میں لگا رہے "
618 شہاب نامہ صفحہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. ایک زمانے میں ملّاا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

    دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔

    یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیرکے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا
    .....................

    جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا"بیت المال کس طرف ہے؟" آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_
    میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_
    بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_
    ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں-
    آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان کی سلامتی اور استحکام کا راز فقط اس بات میں مضمر ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ میں انکی ذاتی اور سراسر انفرادی مفاد کا پیمانہ کس شرح سے گھٹتا اور بڑھتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ قابلِ رحم ھیں ۔۔۔وہ بنیادی طور پر نہ تو وطن دشمن ھوتے ھیں نہ ہی ان پر وطن غداری کا الزام لگانا چاھیے ۔۔۔۔مریضانہ ذہنیت کے یہ لوگ ہرص و ہوس کی آگ میں سلگ سلگ کر اندر ہی اندر بذدلی کی راکھ کا ڈھیر بن جانتے ھیں۔۔۔۔

    حوادثِ دنیا کا ہلکہ سا جھونکا اس راکھ کو اڑا کر تتر بتر کر دیتے ہیں۔۔ انکا اپنا کوئی وطن نہیں ھوتا۔۔۔ان کا اصلی وطن محض ان کا نفس ھوتا ھے۔۔۔ اسکے علاوہ جو سر زمین بھی انکی خود غرضی ، خود پسندی، خود فروشی اور منافقت کو راس آئے، وہ وھیں کے ھو رھتے ھیں۔۔۔پاکستان میں اسطرح کے افراد کا ایک طبقہ موجود تو ھے لیکن خوش قسمتی سے ان کی تعداد محدود ھے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     





Monday, June 17, 2013 0 comments

Message From Your Heart




Don't break me, I bruise easily
The source of both, your love and misery
I am steady, beating endlessly
While you are dozing, dreaming pretty things
I don't work for free
 Please take care of me
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
This is a message from your heart

Don't hurt me, I bleed constantly
My efforts leave me but flow back swiftly
My rhythm soothing, like raindrops steady
On foggy windows while you gaze outwardly
I don't work for freePlease take care of me
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
This is a message from your heart

Every time you sleep
Every time you eat
Every time you laugh
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
Every time you cry
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
Every time you love
This is a message from your heart


0 comments

سلوٹیں

ہیومن فوٹو گرافی یا پنٹنگز میں ہمیشہ سے ہی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ      متاثر کیا ہے وہ  آنکھیں ہیں۔ آنکھیں قدرت کا ایک بہت حیرت انگیز تحفہ ہیں جو انسان کے اندر کی حالت کو بخوبی بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں ۔ یہ دل کی تختی پہ لکھے سب خوشی، غمی، اداسی، مایوسی کے الفاظ کو ہو بہو بیان کر دیتی ہیں۔ ہاں انہیں پڑھنے کا ہنر ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا۔     
اور اگر ہو بھی تو ہر کویئ اسے اپنے زاویہ نظر کے مطابق پڑھتا ہے۔
 میری بھی یہاں ان تصویروں کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے اور انٹرپریٹ کرنے کی کوشش ہو گی۔
آج کی تصویر

Veil by Manny Librodo.


سلوٹیں ہیں میرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہے؟
زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا
Sunday, June 16, 2013 0 comments

وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے



  • کوئٹہ میں کل ایک یونیورسٹی کی طالبات کی بس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بہت دکھ بھرا اور قابل مذمت فعل تھا۔ نا جانے تعلیم کی خاطر گھر سے نکلنے والی ان بچیوں سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے ۔ ایسے حملے ایک مخصوص ذہنی فکر کی عکاسی کرتے ہیں جو آج بھی خواتین کو گھر کی چار دیواری سے باہر دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ ناہید کشور صاحبہ نے ایسی ذہنی فکر کی اس نظم میں بہت خوب عکاسی کی ہے۔

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    وہ جو علم سے بھی گریز پا
    کریں ذکررب کریم کا
    وہ جو حکم دیتا ہے علم کا
    کریں اس کے حکم سے ماورا یہ منادیاں
    نہ کتاب ہو کسی ہاتھ میں
    نہ ہی انگلیوں میں قلم رہے
    کوئی نام لکھنے کی جانہ ہو
    نہ ہو رسم اسم زناں کوئی

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    کریں شہر شہر منادیاں
    کہ ہر ایک قدِ حیا نما کو نقاب دو
    کہ ہر ایک دل کے سوال کو یہ جواب دو
    نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں اڑیں طائروں کی طرح بلند
    نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں کہیں مدرسوں کہیں دفتروں
    کا بھی رخ کریں
    کوئی شعلہ رو، کوئی باصفا، ہے کوئی
    توصحنِ حرم ہی اس کا مقام ہے
    یہی حکم ہے یہ کلام ہے۔

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    وہ یہیں کہیں ہیں قریب میں
    انہیں دیکھ لو، انہیں جان لو
    نہیں ان سے کچھ بھی بعید، شہرِ زوال میں
    رکھو حوصلہ، رکھو یہ یقین
    کہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    !وہ ہیں کتنے چھوٹے وجود میں

    کشور ناہید
Wednesday, June 12, 2013 0 comments

اناؤں کے کھیل




یہ اناؤں کے کھیل بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں
سالوں کے رشتوں کو لمحوں میں روند دیتے ہیں
کہ ان میں جیتنا بھی در حقیقت مات ہوتا ہے
کہ ان کا نشانہ فقط ہماری ذات ہوتا ہے
یہ ایسی بیڑیاں ہیں کہ جن میں اک بار جکڑ لۓ جاٰییں
تو پھر رہائی ممکن نہیں رہتی
کوئی زور آزمائی ممکن نہیں رہتی
پھر مقدر میں فقط پچھتاوے رہ جاتے ہیں
عمروں پہ محیط پچھتاوے۔۔۔




Tuesday, June 11, 2013 0 comments

مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جاۓ






۔
0 comments

ڈرون اٹیکز ، کیا حقیقت، کیا افسانہ؟







نو سال پہلے 2004 میں پہلا ڈرون اٹیک ہوا تھا اور اس کے بعد اب تک تقریباً 360 کے قریب ڈرون اٹیکز ہو چکے ہیں، جس میں بہت سے بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھےہیں۔ کچھ دن قبل ڈرون اٹیکز کی ایک تازہ ترین لہر دیکھنے میں آئی۔ گو پاکستانی حکومت نے گاہے بگاہے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور اسے پاکستان کی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی افواج کی جانب سے اس سلسلے میں بہت سے متضاد بیانات و حرکات دیکھنے میں آئیں جو بہت سے سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ ان کچھ متضاد بیانات کی مثال درج ذیل ہیں۔


پاکستانی حکومت ایک طرف، ڈرون اٹییکز کو پاکستان کی خود مختاری اور انٹرنیشل قوانین کی کھلی خلاف ورزی مانتی ہے، وہیں دوسری طرف،پاکستانی حکومت امریکہ سے ان ڈرون اٹیکز پر مکمل ذاتی کنٹرول بھی مانگتی ہے۔ یعنی لگتا ایسا ہے کہ پاکستانی حکومت کا مقصد، ڈرون اٹیکز کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ انکا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔
ویکی لیکس کے مطابق، میی 2009 میں، آصف علی زرداری صاحب نے امریکی سنیٹر، Patrick Leahy
سے خود یہ کہا تھا کہ :

"give me the drones so my forces can take out the militants [so that] we cannot be criticised by the media or anyone else for actions our Army takes to protect our sovereignty".

اس کے علاوہ یہ بات بھی اب کسی سے چھپی نہیں ہے کہ 2004 سے ہی پاکستانی حکومت اور ملٹری اور امریکہ
کے درمیان ڈرون اٹیکیز کے معاملے میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا چکا تھا، اور اسی مقصد کے تحط، شمسی اورشہبازایر بیسز کا کنٹرول بھی 2011 تک "سی آئی اے"
کو ڈرون اٹیکیز کے لیئے فراہم کیا گیا۔ سلالہ بیس کے واقعے کے بعد یہ کنٹرول واپس پاکستانی افواج نے سنبھال لیا۔

لیکن اس سب کے باوجود پاکستان کا واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ ابھی تک ڈرون کے بارے میں تمام حقیقت کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ اگر ڈرون حملوں کو واقعی ہم روکنا چاہتے ہیں تو کچھ باتوں کا نفاظ فوری طور پر کرنا ہو گا۔

۔1 ڈرون حملوں کے حوالے اس سیکریسی کی فضا کو ختم ہونا چاہیے اور نیوٹرل مبصرین کو اس علاقے تک رسائی حاصل ہونی چاہئے تا کہ زمینیی حقائق کو بہتر طور پہ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔

۔2 ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی پیچان کو سامنے لایا جانا چاہیے تا کہ اس بات کا بہتر طور پہ پتہ چل سکے کہ کتنے بے گناہ لوگ اس حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

۔3 پاکسنانی حکومت اور افواج کو یک زبان ہو کہ بہت صاف الفاظ میں ان ڈرون حملوں کے خلاف سٹینڈ لینا چاہیے اور اس میں کوئی ڈیپلومیسی کا راسنہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔


۔4  امریکہ ابھی تک افغانستان کے مسئلے میں پاکسنان اور پاکسنانی افواج پہ بہت زیادہ ڈپینڈ کرتاہے اور افغانستان سے 2014 میں ہونے والے کامیاب "ایگزٹ" میں بھی پاکستان کا کردار بہت اہم ہو گا تو پاکستان ان تمام معاملات میں مدد کو ڈرون حملوں کے روکے جانے سے مشروط کر سکتا ہے۔

5۔5 شمالی وزیرستان اور فاٹا کے علاقوں پر مشتمل یا تو ایک الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے یا اسے موجودہ "کے پی کے" کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور اسکا کنٹرول مقامی قبائلی لیڈرز کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح امریکہ کے اس پواینٹ کو ختم کیا جا سکے گا کہ چونکہ یہ علاقے پاکسنان کی حکومت کے دائرہ عمل میں نہیں آتے اس لیے ان پر حملہ پاکسنان کی خود مختاری پر حملہ نیہں ہے اور ان علاقوں کو پاکستان کا صوبہ بنا کر یہاں کے لوگوں کو تعلیم، صحت، نوکریاں اور دوسری تمام سہولیات میسر کی جا سکیں گی۔





Sunday, June 9, 2013 0 comments

Struggler

I was a Struggler
wandering in all directions
trying to find the key to inner- satisfaction
I roamed in the city of wealth
it was all shiny, glossy and full of glamour
ready to indulge me in its charm
which contained nothing more than
Jealousy, Competition and Envy
I ran from there and entered
into the city of Spirituality
thinking that perhaps there I would find it
My ever lost inner-satisfaction
but after a matter of time
I realized that it was also corrupted
with hatred, prejudice and divisions
within religions, sects and groups
I ran from there also all Tired and disappointed
Thinking that perhaps My struggle will go in vain
There I saw a man, under a shade of a tree
 all worn out and close to dying
asking for help!!!
Out of awe and empathy that I felt for him
I looked after him day and night
without any desire of reward in return
But Reward I got in form of inner-satisfaction
That I was searching so earnestly all along
It was neither in plunging into the world
 Nor by abandoning it completely
It was hidden only in helping the fellow beings




0 comments

مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں۔۔۔


Saturday, June 8, 2013 0 comments

جھونکا


آزاد نظم

آج دل بہت اُداس ہے
جانے کس بات کا اِحساس ہے
آج کوئی آ گیا
ہوا کے گزرتے ہوئے جھونکے کی طرح
میں جو خزاں کے پتوں کی طرح تھی
مجھے بکھیر گیا
اب جانے کب تک خود سے لڑنا ہو گا
اُسے بھلانے کے لئے
دل کو سمجھانے کے لیئے
کہ وہ پرائی ہوا کا جھونکا تھا 
اور ایسے جھونکوں کو  
روح میں نہیں اُترنے دیا کرتے۔۔۔
0 comments

سائیاں ذات ادھوری ہے


سائیاں ذات ادھوری ہے، سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے، سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن، سائیاں گھات ادھوری ہے

سائیاں رنج ملال بہت، دیوانے بے حال بہت
 قدم قدم پر جال بہت، پیار محبت کال بہت
اور اس عالم میں سائیاں، گزر گئے ہیں سال بہت

سائیاں ہر سو درد بہت، موسم موسم سرد بہت
رستہ رستہ گرد بہت، چہرہ چہرہ زرد بہت
اور ستم ڈھانے کی خاطر، تیرا اک اک فرد بہت

سائیاں تیرے شہر بہت، گلی گلی میں زہر بہت
خوف زدہ ہے دہر بہت، اس پہ تیرا قہر بہت
کالی راتیں اتنی کیوں، ہم کو اک ہی پہر بہت

سائیاں دل مجبور بہت، روح بھی چور و چور بہت
پیشانی بے نور بہت، اور لمحے مغرور بہت
ایسے مشکل عالم میں، تو بھی ہم سے دور بہت
سائیاں راہیں تنگ بہت، دل کم ہیں اور سنگ بہت
پھر بھی تیرے رنگ بہت، خلقت ساری دنگ بہت
سائیاں تم کو آتے ہے، بہلانے کے ڈھنگ بہت

سائیاں میرے تارے گم، رات کے چند سہارے گم
سارے جان سے پیارے گم، آنکھیں گم نظارے گم
ریت میں آنسو ڈوب گئے، راکھ میں ہوئے شرارے گم

سائیاں رشتے ٹوٹ گئے، سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے، تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھے، جو لوٹے ہوئوں کو لوٹ گئے

سائیاں تنہا شاموں میں، چنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں، شامل ہوئے ہے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں، اپنا نام نہ ناموں میں

سائیاں ویرانی کے صدقے، اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے، لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں، اپنی رحمانی کے صدقے

سائیاں میرے درد گھٹا، سائیاں میرے زخم بجھا
سائیاں میرے عیب مٹا، سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں، سائیاں اپنا آپ دکھا

فرحت عباس شاہ
Friday, June 7, 2013 0 comments

"Living on Streets, should not be the destiny of anyone"


Street Children, The Withered flowers can re bloom through our care and help

Seeing many street kids holding flowers, newspapers or garlands on many busy roads of major urban cities in Pakistan trying to lure the Madams or kids in big cars in order to get their mercy and few bucks in return is not a unique phenomenon. The beggars have become a very common sight throughout the Pakistan. They can be found easily on streets, roads and on many historical, religious or touristic places. The general impression about these kids among the population is quite mixed.  A vast majority of people look at them with a feeling of disgust, pity, disdain, and some even consider them as petty criminals.  The “begging mafia” which has turned begging as a business has played a big role in creating those doubts in the hearts and minds of the people.
While there might be some truth behind those doubts and behind the reality of the “begging mafia”, however, one cannot overlook a large number of street or beggar children who do have the desire to get out of this vicious cycle of begging and to study like many other children but are unable to do so due to poverty. This is where the organizations like “Youth Concerns” can play a vital role in helping those children to get the education and thus get out of this cycle of poverty and begging successfully.
Unlike many other organizations who only work to provide the financial needs to those children and their families, “Youth concerns” aims to work on the philosophy of famous Chinese proverb of “give a man a fish, and you can feed him for a day, but teach a man how to fish, and you would feed him for a life time”.  This is a very different approach in which focus would not be only to give the beggar children money but to provide them the tools of education through which they would be able to sustain them for a lifetime and thus be able to live an honorable life in society. By working through this approach, “Youth Concerns” aims to sow the seeds of a New Pakistan, which would be free of beggary and which would be independent in its true sense. This is the only way through which we can make the progress. 



Article written for "youth concerns" organization
0 comments

Process of Catharsis

Today was another of those days, when I was going through from a catharsis, trying to find the internal reasons for that restlessness. This might sound crazy but it happens sometimes when we feel all alone even within the whole crowd. When, all the people around you feel so happy and content of their lives, laughing and having fun and you on the other hand are struggling with your mysterious anxiousness, when you feel stressful without any particular reason ans thus are struggling to get that inner satisfaction.

For many people, ways to get the inner satisfaction can be different. Some relate it with being able to fulfill their worldly and materialistic desires and thus get the satisfaction, whereas, some believe that it can only be obtained by abstaining yourself from the materialistic life and thus devoting yourself to the spiritual realms. I've tried to do the both but have been failed in accomplishing any success, or perhaps I've not tried enough or not tried in the correct way. One other reason can be that perhaps true inner satisfaction can only be achieved by balancing on both materialistic and spiritual desires rather than focusing on either one or the another. Buddha had once said that
If you want to get the happiness and inner satisfaction then first remove "I" which is "ego" and then remove "want" which is "desire" and then you would have the happiness. 
But the question is that is it that easy or even possible for a normal human being to completely forgo their ego and want? Can't there be a middle solution?

In my opinion, the middle solution does exist, and it is to try to find a balance between your worldly and spiritual desires. Wanting is not bad per say but one should know that not all can be achieved and thus one should try to be content on the little they have and not desire for things which are out of reach. Inner satisfaction is also related to your connection with yourself. Inner satisfaction is also related to repentance also that after doing a bad deed, are we able to repent and ask for forgiveness, be it from fellow human beings or from our creator. Inner satisfaction can be obtained by accepting our weaknesses and by seeking the forgiveness. It can be obtained by making others happy. It can be obtained by making our connection with our Lord, and with our self. 
Thursday, June 6, 2013 0 comments

دروازہ بند کرنے کا ہنر







بی جی کا اصلی نام تو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن محلے بھر میں وہ بی جی کے نام سے ہی مشہور تھیں۔ وہ محلے کے چھوٹے بچوں کو قرآنِ پاک پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے بھی کچھ عرصہ ان سے قرآن کا علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ بی جی کی ایک مخصوص بات یہ تھی کہ وہ آنے والے تمام بچوں کو دروازہ بند کرنے کی تلقیں کرتی تھیں۔ بچے عموماً بچپن میں خاصے لاپرواہ ہوتے ہیں۔ کچھ یہی حال میرا بھی تھا، اور میں اکثر اوقات جلدی میں دروازہ مکمل طور پہ بند نہیں کرتی تھی۔ اس پہ بہت بار بی جی سے ڈانٹ بھی کھانا پڑی۔ ایک بار کچھ غصے میں آ کر میں نے بی جی سے کہا کہ اتنا سا دروازہ کھلا رہ جانے سے کچھ نہیں ہوتا بی جی۔ بی جی نے میری طرف دیکھا اور مجھے سبق ختم کر کہ اپنے پاس آنے کی تاکید کی۔ اس بات کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ اب بی جی سے ڈانٹ پڑے گی لیکن خیر ان کے حکم کی لاج بھی رکھنا تھی اس لئے طوعاً کرھاً ان کے پاس جانا ہی پڑا۔

مجھے انہوں نے اپنے پاس بٹھا لیا اور پو چھنے لگیں کہ تمہارے خیال میں، میں دروازہ بند کرنے کی تلقیں کیوں کرتی ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ شائد چونکہ گلی سے مختلف لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے اس لیے آپ دروازہ بند کرنے کا کہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اسکی وجہ کچھ اور ہے۔ میرے دریافت کرنے پہ انہوں نے ایک بہت خوبصورت جواب دیا۔ کہنے لگیں کہ


دروازہ بند کرنے کا مطلب، در حقیقت ماضی کا دروازہ بند کر کہ حال میں قدم رکھنا ہے۔ اگر ہم دروازہ کھلا رہنے دیں گے تو ماضی کا خیال بھی ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ 

انکی یہ بات اس وقت تو سمجھ میں نہیں آئی لیکن آج سوچتی ہوں کہ بی جی نے بلکل ٹھیک کہا تھا۔ اگر دروازہ بند نہ کیا جائے تو ماضی کی یاد اور خیالات پیچھا نہیں چھوڑتے اور انہی کی یاد میں ہم اپنے حال کو بھی اجیرن کیے رکھتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے سنہری یا تاریک ماضی کی گٹھریاں اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ اپنے تاریک یا تابناک ماضی کی یادوں میں کھو کر اپنے حال کو سہی طرح نہیں گزار پاتے۔ کچھ یہی حال میرا بھی ہے۔ اپنے ماضی کی یادوں میں کھو کر مجھے اپنے حال کو تسلیم کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ بی جی کی باتوں کو سوچ کر آج بھی ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ بی جی مجھے آج بھی دروازہ بند کرنے کا ہنر نہیں آیا۔
1 comments

لفظوں کی دنیا


آزاد نظم

لہجوں کی کرواہٹ، روئیوں کی تلخی سے جس دم
زندگی تھکنے سی لگتی ہے
اس لمحے میرے الفاظ بولتے ہیں
یہ مجھے گِر کہ سنبھلنا سکھاتے ہیں
زندگی سے لڑنا سکھاتے ہیں
میرے الفاظ میرا ہتھیار ہیں
میری زندگی کا دارومدار ہیں
کہ ان کے بنا میں کچھ بھی نہیں
میں لفظوں کی دنیا میں
اور
میرے الفاظ مجھ میں بستے ہیں۔ 
1 comments

کیا میں واقعی پاگل ہوں؟

 آج ایک عجیب کمنٹ ملا مجھے  
کیا تم پاگل تو نہیں ہو؟ سچ بتانا، کو ئی بچپن میں سر پر چوٹ آئی ہو؟ بہت ابنارمل ہیں تمہاری حرکتیں
اس ریمارک نے کچھ لمحے کے لیے واقعی مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ کیا واقعی کچھ ایسا ہے؟ اس کے ساتھ ہی میرا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں کھوتا چلا گیا۔ پاکستان میں گزارے ہوئے بچپن کے وہ لمحات ذہن کی سکرین پر ابھرنے لگے جب گھر سے لے کے جانے والے لنچ باکس میں موجود کھانا میں عموماّ پرندوں کو ڈال دیا کرتی تھی اور ساتھ میں ملنے والی پاکٹ منی اپنی اس دوست کو دے دیا کرتی تھی جس کے گھر کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے۔ اس بات کا علم جب گھر والوں کو ہوا تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ پاگل تو نہیں ہو؟ پھر تو مانیے، زندگی بھر اس لاین نے میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑا۔ اگر اپنے بچائے ہوئے پیسے کسی غریب کو دے دیئے، اگر کسی کی مدد کی غرض سے ، کمیونٹی سنٹر میں ذرا دیر تک بیٹھ گئی، اگر پڑھائی ختم کر کہ واپس پاکستان جانے کا نام لیا، اگر ملکی سیاست میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، کسی دو دوستوں کے درمیان غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی، کسی سے غصے کے جواب میں 
اچھے طریقے سے بات کرنے کی کوشش کی ، ان سب کے جواب میں یہی لاین سننے کو ملی کہ  تم پاگل تو نہیں ہو۔ 

مجھے واقعی لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں۔ اگر اس دور حاضر میں، ایک حساس دل رکھنا پاگل پن ہے تو ہاں میں پاگل ہوں۔ اگر اپنے نفع و نقصان کو ایک طرف رکھتے ہوئے دوسروں کے لیے سوچنا پاگل پن ہے تو ہاں میں پاگل ہوں۔ اگر اپنی ذات سے بڑھ کہ انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بارے میں سوچنا پاگل پن ہے تو ہاں میں پاگل ہوں ۔ اور میرا خیال ہے کہ عصرِ حاضر میں جن انفرادی و اجتماعی مشکلات کا ہم شکار ہیں ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے، ہمیں اس خود غرضی والی عقلمندی کے طوق کو اتار کر، اس بے غرضی والے پاگل پن کا شکار ہونا پڑے گا۔ آج کی دنیا میں ہمیں ایسے عقلمندوں کی ضرورت نہیں جو اپنے فائدے کے لئے دوسروں کو تقسیم کر رہے ہیں اور قوموں اور ملکوں میں تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج کی دنیا ایسے پاگلوں کی تلاش میں ہے جو آج بھی اپنی ذات سے بڑھ کہ سوچ سکیں اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اس انتشار کو بڑھنے سے روک سکیں۔ 
Wednesday, June 5, 2013 0 comments

درد کا موسم




بہت دنوں سے میرے شہر کی فضاوں پر

دکھ کا بادل ہے منڈلایا ہوا

درد کا موسم سا ہے چھایا ہوا

کلیاں کھلتی تھیں جہاں، خوشیاں بکھرتی تھیں جہاں

اب تو ہر سمت وہاں پھیلا ہے خاموشی کا سایہ

روشن چہرے، بلند ارادے، امیدوں کے چراغ تھے جنکی جاگیر

کیوں وہاں آج ہر چہرہ ہے، کملایا ہوا، گھبرایا ہوا؟

کیوں ہوا، کیسے ہوا، کس نے کیا، ذہن ہے انہی سوالوں میں الجھا ہوا

کس سے طلب کریں ہم اسکا جواب، ہر چہرہ ہے بکھرا ہوا، مرجھایا ہوا

مت ہو اُداس، پونچھ لو اِن آنسووں کو اے میرے اہلِ وطن

درد کے اس موسم کو بدل دینے کا وقت ہے آیا ہوا

مٹا کہ سب بغض و کدورت، آو، تجدیدِ عہدِ وفا کریں

لے جاییں گے پاکستان کو اس راہ پر

جسکا خواب ہے ہم نے دل میں سجایا ہوا









1 comments

تلاشِ معانیت



ہم میں سے ہر کوئی معانیت کی تلاش میں رہتا ہے۔ کوئی زندگی کا مقصد تلاش کرنے میں لگا ہے تو کوئی باطنی اور روحانی منازل طے کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ کچھ لوگ زیادہ سے زیادہ محنت کر کہ کامیاب ہونےاور ترقی کی منازل طے کرنے کو پرفیکشن یا معا نیت کی انتہا سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ روحانیت کی منازل طے کر کہ خودی کو کھو کہ اپنی ذات کے پانے کےعمل کو معانیت یا مقصدیت کی انتہا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر ایک کا فلسفہ اور دیکھنے کا نظریہ مختلف نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ کس کی ڈیفینشن یا کس کا نقطہِ نظر سہی ہے کیونکہ کسی بھی چیز کے سہی یا غلط ہونے کا انحصار ہماری انفرادی ویلیوز اور حالات و واقعات پہ ہوتا ہے۔ کسی کے لیے کوئی چیز کسی ایک وقت میں سہی جبکہ وہی چیز کسی اور وقت میں غلط بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، کسی ایک کے لیے جو بات بلکل قابلِ قبول اور سہی ہو، وہی بات کسی دوسرے کے لیے بلکل نا مناسب اور غلط ہو سکتی ہے۔


اس بات کے پیشِ نظر، غلط یا سہی، یا مادیت یا روحانیت کی بحث چھوڑ کہ توازن یا بیلنس کی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ شاید اسی لیے دین اور دنیا کو ساتھ لے کہ چلنے کی بات کی جاتی ہے۔ مادیت اور روحانیت کا امتزاج ہی وقت کی ضرورت ہے اور شاید اسی کے ذریعے ہی معانیت کی حدود تک پہنچا اور انہیں پار کیا جا سکتا ہے۔

1 comments

اے میرے کبریا


اے مرے کبریا۔۔۔۔!۔


اے انوکھے سخی!۔

اے مرے کبریا!!۔

میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے

میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر

تیری پہچان کا اولیں مرحلہ!۔

میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا!۔

تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر!!۔

میری منزل؟

تیری رہگزر کی خبر!۔

میرا حاصل؟

تری آگہی کی عطا!!۔

میرے لفظوں کی سانسیں

ترا معجزہ!۔

میرے حرفوں کی نبضیں

ترے لطف کا بے کراں سلسلہ!۔

میرے اشکوں کی چاندی

ترا آئینہ!۔

میری سوچوں کی سطریں

تری جستجو کی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!۔

میں مسافر ترا ۔۔۔۔ (خود سے نا آشنا)۔

ظلمتِ ذات کے جنگلوں میں گھرا

خود پہ اوڑھے ہوۓ کربِ وہم وگماں کی سُلگتی رِدا

ناشناسائیوں کے پرانے مرض

گُمراہی کے طلسمات میں مبتلا

سورجوں سے بھری کہکشاں کے تلے

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ترا نقش پا ۔ ۔ ۔ !!۔


اے انوکھے سخی!۔


اے مرے کبریا!!۔

کب تلک گُمراہی کے طلسمات میں؟

ظلمتِ ذات میں

ناشناسائیوں سے اَٹی رات میں

دل بھٹکتا رہے

بھر کے دامانِ صد چاک میں

بے اماں حسرتوں کا لہو

بے ثمر خواہشیں

رائیگاں جستجو!!۔


اے انوکھے سخی!۔


اے مرے کبریا!!۔

کوئی رستہ دکھا

خود پہ کُھل جاؤں میں

مجھ پہ افشا ہو تُو'
اے مرے کبریا!!۔

کبریا اب مجھے

لوحِ ارض و سما کے

سبھی نا تراشیدہ پوشیدہ

حرفوں میں لپٹے ہوئے

اسم پڑھنا سکھا

اے انوکھے سخی!۔

اے مرے کبریا!۔


میں مسافر ترا
Powered by Blogger.
 
;