Thursday, July 4, 2013 2 comments

کبھی ہم خوبصورت تھے

                                                                                  


کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
!سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے 
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر 
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے 
جو ہم سے دور تھے 
!لیکن ہمارے پاس رہتے تھے 
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
!تو ہم کہتے تھے۔۔۔ ۔۔امی
تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے 
ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ 
کھڑکی سے بلاتی ہے 
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
Wednesday, July 3, 2013 0 comments

آنکھیں روح کی آئنہ دار ہوتی ہیں۔

Pipie ~ by Gansforever Osman


“The soul, fortunately, has an interpreter - often an unconscious but still a faithful interpreter - in the eye.”  Jane Ayre

 
Thursday, June 27, 2013 1 comments

Inferno ( انفرنو)




ڈین براون کے ناولز کی میں ہمیشہ سے فین تھی۔ مجھے یاد ہے ہائی سکول میں میں نے انکا پہلا ناول "دا ونشی کوڈ" پڑھا تھا اور انکے سمبلز کے استمال اور سیکرٹ سوسایٹیز کے بارے میں انفارمیشن نے مجھے کافی متاثر کیا تھا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک میں سیکرٹ سوسایٹیز کے بارے میں تحقیق کرتی رہی اور آج بھی جب وقت ملے یہ کام کرتی رہتی ہوں۔ حال ہی میں انکا نیا ناول "انفرنو" شائع ہوا ہے ۔ کچھ دن پہلے اسے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انکا یہ حالیہ ناول " گلوبل اوور 
پاپولیشن" اور " ٹرانس ہیومنزم" کی تھیمز پہ لکھا گیا ہے۔

"گلوبل اوور پاپولیشن" کا ٹاپک نیا نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں "مالتھس تھیورم" ایک
 وقت میں کافی مشہور ہوا۔ اس تھیوری کے مطابق، جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے ، مستقبل قریب میں غذائی قلت کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مالتھس کے مطابق، قدرتی آفات جیسے سیلاب، مخلتف وبائیں، اور قحط وغیرہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کا ایک قدرتی زریعہ ہیں تا کہ دنیا کی کل آبادی اور غذائی وسائل میں ایک توازن برقرار رہے۔ اس کتاب میں بھی دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کتاب کی دوسری تھیم "ٹرانس ہیومنزم"ہے جو کہ جنیٹک انجیرنگ کی ایک فیلڈ ہے۔
 اس کے ذریعے مستقبل میں بہت سی بیماریوں کا علاج اور انسانی عمر کو بڑھانے کے طریقوں پر ریسرچ شامل ہے۔ ٹرانس ہیومنزم کی ریسرچ گو اچھے مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے لیکن کتاب کے مصنف کے مطابق اسکا استمال بعض حکومتوں یا بعض عناصر کے خاص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں ٹرانس ہیومنزم کی فیلڈ کا استمال ایک ایسا مہلک وائرس بنانے کے لئے کیا گیا ہے جس سے دنیا کی آبادی کو کم کیا جا سکے۔

گو کہ یہ ایک فکشن ناول ہے لیکن "گلوبل اوور پاپولیشن" اور "ٹرانس ہیومنزم" کی دونوں تھیمز بلکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ آج سائینس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ مختلف نینو ٹیکنالوجیز کی مدد سے وائرسزز تیار کر سکتی ہے۔ ایڈز اور مختلف الفلوئنزا وائرسز اسکی کھلی مثال ہیں۔ ایڈز وائرس کا ٹیسٹ جس طرح افریکہ میں ویکسینیشن مہم کے تحط کیا گیا، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

جہاں ایک طرف ٹرانس ہیومنزم ٹیکنالوجی کا استمال وائرس بنانے کے لیئے کیا جا
 سکتا ہے وہیں دوسری طرف اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کی عمر اور اسکی ذہانت کو بھی سپیشل چپس کی مدد سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ اچھی بات ہے وہیں دوسری طرف اس کے نقصانات بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرے کے مختلف لوگوں کے درمیان پہلے سے موجود فاصلے کا اور زیادہ بڑھنا ہو گا۔ ظاہر ہے یہ ٹیکنالوجی اگر منظر عام پر آتی ہے تو سب سے پہلے اسے امیر اور صاحب حثیت لوگ اور ملک ہی استمال کریں گے اور یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ اسےکون استمال کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ تو ذرہ اندازہ لگائیں کہ جو دنیا پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان بٹی ہوئی ہے وہ مزید ذہین اور کم ذہین اور شاید اعلی انسان اور نچلے انسانوں جیسی مزید تقسیم کا شکار ہو جائے۔ اس طرح آنے والے مستقبل میں ہم آگے جانے کے بجائے ڈارک ایجز کے ایک نئے دور میں داخل ہو جایئں گے جو ہم سے ہماری بچی کچھی انسانیت اور انسانی تہذیب اور ولیوز بھی چھین لےگا۔۔۔        
Saturday, June 22, 2013 0 comments

Have Mercy on me My Soul



This has been my favorite poem from last 5 years...


Why are you weeping, my Soul?
Knowest thou my weakness?
Thy tears strike sharp and injure,
For I know not my wrong.
Until when shalt thou cry?
I have naught but human words to interpret your dreams,
Your desires, and your instructions.

Look upon me, my Soul;
I have consumed my full life heeding your teachings.
Think of how I suffer!
I have exhausted my life following you.

My heart was glorying upon the throne,
But is now yoked in slavery;
My patience was a companion,
But now contends against me;
My youth was my hope,
But now reprimands my neglect.

Why, my Soul, are you all-demanding?
I have denied myself pleasure
And deserted the joy of life
Following the course which you impelled me to pursue.
Be just to me,
Or call Death to unshackle me,
For justice is your glory.

Have mercy on me, my Soul.
You have laden me with Love until I cannot carry my burden.
You and Love are inseparable might;
Substance and I are inseparable weakness.
Will e'er the struggle cease between the strong and the weak?

Have mercy on me, my Soul.
You have shown me Fortune beyond my grasp.
You and Fortune abide on the mountain top;
Misery and I are abandoned together in the pit of the valley.
Will e'er the mountain and the valley unite?

Have mercy on me, my Soul.
You have shown me Beauty,
But then concealed her.
You and Beauty live in the light;
Ignorance and I are bound together in the dark.
Will e'er the light invade darkness?

Your delight comes with the Ending,
And you revel now in anticipation;
But this body suffers with the life
While in life.
This, my Soul, is perplexing.

You are hastening toward Eternity,
But this body goes slowly toward perishment.
You do not wait for him,
And he cannot go quickly.
This, my Soul, is sadness.

You ascend high, though heaven's attraction,
But this body falls by earth's gravity.
You do not console him,
And he does not appreciate you.
This, my Soul, is misery.

You are rich in wisdom,
But this body is poor in understanding.
You do not compromise,
And he does not obey.
This, my Soul, is extreme suffering.

In the silence of the night you visit The Beloved
And enjoy the sweetness of His presence.
This body ever remains,
The bitter victim of hope and separation.
This, my Soul, is agonizing torture.
Have mercy on me, my Soul!

Khalil Jabran
Wednesday, June 19, 2013 0 comments

آنکھوں کا پانی

"Estudio Portugal 4" de Ruben Belloso Adorna



بے حسوں کے شہر میں حساس کو سوجھی ہے کیا ؟
بیچنے  بازار  میں  آنکھوں  کا  پانی  آ   گیا۔ ۔ ۔
Tuesday, June 18, 2013 1 comments

شہاب نامہ



بہت عرصے بعد کسی مصنف یا کسی کتاب نے اس طرح متاثر کیا۔ ہم عموماً بہت سی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ کتابیں اپنی چھاپ آپکے ذہن پہ چھوڑ  دیتی ہیں اور آپ کو اپنے سحر میں کچھ اس طرح سے جکڑ لیتی ہیں کہ آپ غیر ارادی طور پر اس کتاب سے حاصل ہوۓ اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شہاب نامہ بلکل ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ یہ قدرت الله شہاب صاحب کی سوانح عمری ہے جو انہوں نے ابنٰ انشا کے زور دینے پہ لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے انڈین سول سروس اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان سول سروس میں پیش آنے والے تجربات و واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ 1950 سے 1970 کے عرصے کے دوران وہ مختلف صدور کے سیکرٹری کے فرایض سر انجام دیتے رہے اور اس طرح اس دور کے سیاسی منظر نامے کی اندر کی خبروں سے واقف تھے جنکا ذکر انہوں نے اس کتاب میں بھی کیا ہے۔  انکی سیاسی اور علمی بصیرت کے علاوہ ایک اور قابل ستائش با ت انکی مذہبی و روحانی  وابستگی بھی ہے۔ اس کتاب میں بہت بار انہوں نے ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جو انکی مذہبی وابستگی و بصیرت کا کھلا ثبوت ہیں۔  
اس کتاب میں سے کچھ پسندیدہ اقتباسات
  1. "ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔اگر افغانستان،ایران، مصر، عراق اور ترکی اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو پھر بھی وہ افغانی، ایرانی، مصری، عراقی اور ترک ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلام کے نام سے راہ فرار اختیار کریں تو پاکستان کا اپنا کوئی الگ وجود نہیں قائم نہیں رہتا۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  1.  اگلے روز انہوں نے مجھے مدینہ منورہ سے رخصت کردیا میں نے بہت عذر کیا کہ میرا یہاں سے ہلنے کو جی نہیں چاہتا لیکن وہ نہ مانے فرمانے لگے پانی کا برتن بہت دیر تک آگ پر پڑا رہے تو پانی ابل ابل کر ختم ہو جاتا ہے اور برتن خالی رہ جاتا ہے دنیا داروں کا ذوق شوق وقتی ابال ہوتا ہے کچھ لوگ یہاں رہ ر بعد میں پریشان ہوتے ہیں ان کا جسم تو مدینے میں ہوتا ہے لیکن دل اپنے وطن کی طرف لگا رہتا ہے اس سے بہتر ہے کہ انسان رہے تو اپنے وطن میں مگر دل مدینے میں لگا رہے "
618 شہاب نامہ صفحہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. ایک زمانے میں ملّاا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

    دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔

    یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیرکے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا
    .....................

    جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا"بیت المال کس طرف ہے؟" آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_
    میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_
    بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_
    ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں-
    آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان کی سلامتی اور استحکام کا راز فقط اس بات میں مضمر ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ میں انکی ذاتی اور سراسر انفرادی مفاد کا پیمانہ کس شرح سے گھٹتا اور بڑھتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ قابلِ رحم ھیں ۔۔۔وہ بنیادی طور پر نہ تو وطن دشمن ھوتے ھیں نہ ہی ان پر وطن غداری کا الزام لگانا چاھیے ۔۔۔۔مریضانہ ذہنیت کے یہ لوگ ہرص و ہوس کی آگ میں سلگ سلگ کر اندر ہی اندر بذدلی کی راکھ کا ڈھیر بن جانتے ھیں۔۔۔۔

    حوادثِ دنیا کا ہلکہ سا جھونکا اس راکھ کو اڑا کر تتر بتر کر دیتے ہیں۔۔ انکا اپنا کوئی وطن نہیں ھوتا۔۔۔ان کا اصلی وطن محض ان کا نفس ھوتا ھے۔۔۔ اسکے علاوہ جو سر زمین بھی انکی خود غرضی ، خود پسندی، خود فروشی اور منافقت کو راس آئے، وہ وھیں کے ھو رھتے ھیں۔۔۔پاکستان میں اسطرح کے افراد کا ایک طبقہ موجود تو ھے لیکن خوش قسمتی سے ان کی تعداد محدود ھے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     





Monday, June 17, 2013 0 comments

Message From Your Heart




Don't break me, I bruise easily
The source of both, your love and misery
I am steady, beating endlessly
While you are dozing, dreaming pretty things
I don't work for free
 Please take care of me
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
This is a message from your heart

Don't hurt me, I bleed constantly
My efforts leave me but flow back swiftly
My rhythm soothing, like raindrops steady
On foggy windows while you gaze outwardly
I don't work for freePlease take care of me
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
This is a message from your heart

Every time you sleep
Every time you eat
Every time you laugh
This is a message from your heart
Your most devoted body part
Taking blood and making art
Every time you cry
This is a message from your heart
Pounding away into the dark
You could thank me for a start
Every time you love
This is a message from your heart


Powered by Blogger.
 
;