Wednesday, June 5, 2013 1 comments

تلاشِ معانیت



ہم میں سے ہر کوئی معانیت کی تلاش میں رہتا ہے۔ کوئی زندگی کا مقصد تلاش کرنے میں لگا ہے تو کوئی باطنی اور روحانی منازل طے کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ کچھ لوگ زیادہ سے زیادہ محنت کر کہ کامیاب ہونےاور ترقی کی منازل طے کرنے کو پرفیکشن یا معا نیت کی انتہا سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ روحانیت کی منازل طے کر کہ خودی کو کھو کہ اپنی ذات کے پانے کےعمل کو معانیت یا مقصدیت کی انتہا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر ایک کا فلسفہ اور دیکھنے کا نظریہ مختلف نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ کس کی ڈیفینشن یا کس کا نقطہِ نظر سہی ہے کیونکہ کسی بھی چیز کے سہی یا غلط ہونے کا انحصار ہماری انفرادی ویلیوز اور حالات و واقعات پہ ہوتا ہے۔ کسی کے لیے کوئی چیز کسی ایک وقت میں سہی جبکہ وہی چیز کسی اور وقت میں غلط بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، کسی ایک کے لیے جو بات بلکل قابلِ قبول اور سہی ہو، وہی بات کسی دوسرے کے لیے بلکل نا مناسب اور غلط ہو سکتی ہے۔


اس بات کے پیشِ نظر، غلط یا سہی، یا مادیت یا روحانیت کی بحث چھوڑ کہ توازن یا بیلنس کی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ شاید اسی لیے دین اور دنیا کو ساتھ لے کہ چلنے کی بات کی جاتی ہے۔ مادیت اور روحانیت کا امتزاج ہی وقت کی ضرورت ہے اور شاید اسی کے ذریعے ہی معانیت کی حدود تک پہنچا اور انہیں پار کیا جا سکتا ہے۔

1 comments

اے میرے کبریا


اے مرے کبریا۔۔۔۔!۔


اے انوکھے سخی!۔

اے مرے کبریا!!۔

میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے

میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر

تیری پہچان کا اولیں مرحلہ!۔

میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا!۔

تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر!!۔

میری منزل؟

تیری رہگزر کی خبر!۔

میرا حاصل؟

تری آگہی کی عطا!!۔

میرے لفظوں کی سانسیں

ترا معجزہ!۔

میرے حرفوں کی نبضیں

ترے لطف کا بے کراں سلسلہ!۔

میرے اشکوں کی چاندی

ترا آئینہ!۔

میری سوچوں کی سطریں

تری جستجو کی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!۔

میں مسافر ترا ۔۔۔۔ (خود سے نا آشنا)۔

ظلمتِ ذات کے جنگلوں میں گھرا

خود پہ اوڑھے ہوۓ کربِ وہم وگماں کی سُلگتی رِدا

ناشناسائیوں کے پرانے مرض

گُمراہی کے طلسمات میں مبتلا

سورجوں سے بھری کہکشاں کے تلے

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ترا نقش پا ۔ ۔ ۔ !!۔


اے انوکھے سخی!۔


اے مرے کبریا!!۔

کب تلک گُمراہی کے طلسمات میں؟

ظلمتِ ذات میں

ناشناسائیوں سے اَٹی رات میں

دل بھٹکتا رہے

بھر کے دامانِ صد چاک میں

بے اماں حسرتوں کا لہو

بے ثمر خواہشیں

رائیگاں جستجو!!۔


اے انوکھے سخی!۔


اے مرے کبریا!!۔

کوئی رستہ دکھا

خود پہ کُھل جاؤں میں

مجھ پہ افشا ہو تُو'
اے مرے کبریا!!۔

کبریا اب مجھے

لوحِ ارض و سما کے

سبھی نا تراشیدہ پوشیدہ

حرفوں میں لپٹے ہوئے

اسم پڑھنا سکھا

اے انوکھے سخی!۔

اے مرے کبریا!۔


میں مسافر ترا
0 comments

تعارفی پوسٹ

بلاگنگ ورلڈ سے میرا ناطہ بلکل نیا ہے، ہاں مگر سوچ کی دنیا سے ناطہ کافی پرانا ہے۔ سوچ نگر کا مقصد اسی سوچ کے دھارے کو یہاں بھی منتقل کرنا ہے۔ سوچ نگر کا یہ بلاگ ابھی ابتدائی طور میرے لیے ایک پرسنل ڈایری کی سی حثییت رکھتا ہے۔ یہاں میری کوشش ہو گی کہ اردو لٹریچر میں سے اپنی پسندیدہ سلیکشنز شیر کروں۔ اس کے ساتھ ساتھ میری سوچ کا عکس بھی یہاں میری پرسنل شاعری اور اوپنینز کے زریعے ظاہر ہوتا رہے گا۔ سوچوں کا یہ کارواں اب دیکھتے ہیں کونسا رخ اختیار کرتا ہے۔
Powered by Blogger.
 
;