ہم میں سے ہر کوئی معانیت کی تلاش میں رہتا ہے۔ کوئی زندگی کا مقصد تلاش کرنے میں لگا ہے تو کوئی باطنی اور روحانی منازل طے کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ کچھ لوگ زیادہ سے زیادہ محنت کر کہ کامیاب ہونےاور ترقی کی منازل طے کرنے کو پرفیکشن یا معا نیت کی انتہا سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ روحانیت کی منازل طے کر کہ خودی کو کھو کہ اپنی ذات کے پانے کےعمل کو معانیت یا مقصدیت کی انتہا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر ایک کا فلسفہ اور دیکھنے کا نظریہ مختلف نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ کس کی ڈیفینشن یا کس کا نقطہِ نظر سہی ہے کیونکہ کسی بھی چیز کے سہی یا غلط ہونے کا انحصار ہماری انفرادی ویلیوز اور حالات و واقعات پہ ہوتا ہے۔ کسی کے لیے کوئی چیز کسی ایک وقت میں سہی جبکہ وہی چیز کسی اور وقت میں غلط بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، کسی ایک کے لیے جو بات بلکل قابلِ قبول اور سہی ہو، وہی بات کسی دوسرے کے لیے بلکل نا مناسب اور غلط ہو سکتی ہے۔
اس بات کے پیشِ نظر، غلط یا سہی، یا مادیت یا روحانیت کی بحث چھوڑ کہ توازن یا بیلنس کی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ شاید اسی لیے دین اور دنیا کو ساتھ لے کہ چلنے کی بات کی جاتی ہے۔ مادیت اور روحانیت کا امتزاج ہی وقت کی ضرورت ہے اور شاید اسی کے ذریعے ہی معانیت کی حدود تک پہنچا اور انہیں پار کیا جا سکتا ہے۔



- "Join Us on Facebook!
- RSS
Contact